Skip to main content

انتہا پسند کون؟ اسلام یا اسلام دشمن؟

کافی مسلمانوں کی دریافت ہے‘ یہ مشروب ایتھوپیا میں دریافت ہوا‘ مکہ پہنچا‘ خانہ کعبہ کے سامنے دنیا کی پہلی کافی شاپ بنی اور کافی صوفی ڈرنک یا مسلم ڈرنک کے نام سے مشہور ہوگئی‘ پوپ نے مسلمانوں کی وجہ سے کافی کو حرام قرار دے دیا‘ کافی سن 1500ءتک عیسائی دنیا میں حرام اور ممنوعہ رہی یہاں تک کہ 1500ءمیں پوپ نے کافی کا پہلا گھونٹ بھرا اور اسے جائز قرار دے دیا‘اور یہ ٹائی بھی مسلمانوں کی ایجاد ہے‘ یہ قرطبہ شہر میں زریاب قرطبی نے ایجاد کی تھی‘ خلیفہ کا سٹاف ٹائی باندھتا تھا‘ پادریوں نے ٹائی پر پابندی لگا دی‘ یہ ٹائی کو قرطبہ کی مناسبت سے ”قرطوبی“ کہتے تھے‘ آج بھی فرنچ زبان اور آدھے سپین میں ٹائی کو قرطوبی کہا جاتا ہے‘ چرچ نے ٹائی کو حلال کیسے قرار دیا‘ یہ بھی الگ کہانی ہے‘ عیسائیت نئی ریسرچ‘ نئی ایجادات اور نئی سوچ کے خلاف تھی‘ عیسائی انجیل کی آیات کی تلاوت کرتے‘ آیات کی اپنی مرضی کی تاویل کرتے تھے اور سائنس دانوں کو پھانسی چڑھا دیتے تھے‘ آپ اس ضمن میں نکولس کوپر نیکس کی مثال لیجئے‘ کوپرنیکس علم ہئیت اور ریاضی کا ماہر تھا‘ اس نے 1520ءمیں سورج اور زمین کے رشتے پر کتاب لکھی‘ اس نے کتاب میں انکشاف کیا ” زمین سورج کے گرد چکر لگاتی ہے“ وہ چرچ کے اختیارات سے واقف تھا چنانچہ اس نے کتاب پر اپنا نام نہیں لکھا‘ پادریوں نے کتاب کو خلاف مذہب قرار دے دیا‘ پادریوں کا کہنا تھا انجیل میں لکھا ہے سورج زمین کے گرد گھومتا ہے چنانچہ یہ نئی تھیوری انجیل سے متصادم ہے‘ مصنف کے خلاف سزائے موت کا حکم آ گیا‘ چرچ کوپر نیکس سے بائیس سال یہ پوچھتا رہا ”یہ کتاب تم نے لکھی“ اور کوپر نیکس انکار کرتا رہا یہاں تک کہ 1543ءمیں جب اس کی موت کا وقت آگیا تو اس نے اپنا جرم بھی مان لیا اور کتاب پر اپنا نام بھی تحریر کر دیا‘ چرچ نے کتاب ”بین“ کر دی‘ فلورنس کے سائنس دان گلیلیو نے 1632ءمیں انکشاف کیا ” صرف زمین نہیں بلکہ باقی سیارے بھی سورج کے گرد گھوم رہے ہیں“ چرچ نے گلیلیو کو بھی کافر قرار دے دیا‘ گلیلیو کی کتاب بھی ضبط ہوئی‘ آٹھ ماہ مقدمہ چلا اور آخر میں گلیلیو کو”موت یا معافی“ کا آپشن دیا گیا۔ گلیلیو اپنی تھیوری سے تائب ہوا اور چرچ سے معافی مانگ لی‘ پادریوں نے اسے اس کے فارم ہاؤس میں نظر بند کر دیا‘ وہ 1642ءمیں اس فارم ہاؤس میں فوت ہو گیا مگر اس کا جرم معاف نہ ہوا‘ پادریوں نے اس کے جنازے کی اجازت نہ دی یوں گلیلیو کو جنازے کے بغیر گم نام قبر میں دفن کر دیا گیا‘ اس واقعے کے ساڑھے تین سو سال بعد پوپ جان پال نے 1992ءمیں اعتراف کیا ” گلیلیو کے ساتھ ناانصافی ہوئی“ گلیلیو کے بعد گیارڈانو برونو (Giordano Bruno) نے زمین کی ساخت پر کام شروع کیا ‘ چرچ کے حکم پر لوگوں نے اسے زندہ جلا دیا‘ آکسفورڈ میں آج بھی آپ کو وہاں بشپ نکولس ریڈلی اور بشپ ہیوگ لیمڑ کی یاد گار ملے گی‘ یہ دونوں چرچ کے روایتی طریقہ کار سے اختلاف رکھتے تھے چنانچہ دونوں کو آکسفورڈ کے چوک میں زندہ جلا دیا گیا‘ یہ عیسائیوں کا علم‘ سائنس اور جدت کے بارے میں رویہ تھا‘ یہ چند مثالیں ہیں ‘ تاریخ ایسے سینکڑوں واقعات سے بھری پڑی ہے۔ اسلام عیسائیت سے بالکل برعکس ہے‘ یہ روشن خیال بھی ہے‘یہ کھلاڈھلا بھی ہے‘ یہ نئے اور جدید خیالات کو قبول بھی کرتا ہے‘ یہ علم دوست بھی ہے‘ یہ عملی بھی ہے اور یہ برداشت بھی رکھتا ہے‘ اسلام کا دل کتنا بڑا ہے؟ آپ اس کا اندازہ یوروشلم کی فتح سے لگا لیجئے‘ حضرت عمر فاروق ؓ یوروشلم کی فتح پر بیت المقدس گئے اور آپؓ نے چرچ میں نماز ادا کرنے سے انکار کر دیا‘ آپؓ کا کہنا تھا‘ میں نے اگر ایک چرچ میں نماز پڑھ لی تو مسلمان تمام کلیساؤں کو مسجدیں بنا دیں گے‘ مسلمانوں نے سینکڑوں سائنس دان‘ فلسفی اور فقیہہ پیدا کئے‘ محمد ابن موسیٰ الخوارزمی نے 810ءسے 820ءکے درمیان الجبرہ کی بنیاد رکھی‘ ثابت بن قراءنے 880ءمیں شماریات (Statistics) کا علم متعارف کرایا‘ ابن الہیشم نے 1010ءمیں روشنی اور علم بصارت پر کام کیا‘ یونانی فلاسفر اور مذہب یہ کہتا تھا ہماری آنکھ میں روشنی (نور) ہوتی ہے‘ یہ روشنی آنکھ سے نکل کر اشیاءپر پڑتی ہے‘ ابن الہیشم نے یہ فلسفہ مسترد کر دیا‘ اس نے ثابت کیا روشنی باہر سے ہماری آنکھوں میں داخل ہوتی ہے‘ ہماری آنکھ کے پیچھے پردہ ہے جس پر تمام مناظر منعکس ہوتے ہیں‘ ابن الہیشم نے ہزار سال قبل ”کتاب المناظر“ کے نام سے کتاب لکھی‘ ابن الہیشم کے اس فلسفے پر بعد ازاں کیمرہ ایجاد ہوا‘ عینک بنی اور آنکھوں کا علاج شروع ہوا‘ ابو ریحان البیرونی نے 1020ءمیں ریاضی‘ تاریخ اور جغرافیہ پر کام کیا‘ اس نے زاویے کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا اور زمین کا محیط نکالنے کا طریقہ ایجاد کیا‘ ابوالقاسم الظواہری نے 980ءمیں زخم بھرنے اور سرجری کے جدید علم کی بنیاد رکھی‘ اس نے ادویات کا پہلا انسائیکلو پیڈیا بھی مرتب کیا‘ امام غزالیؒ پہلے مسلم مفکر تھے جنہوں نے دنیا کو بجٹ کا تصور دیا ” علم کی دو قسمیں ہوتی ہیں‘ دنیاوی علم اور دینی علم“۔ اس فلسفے کے بانی بھی امام غزالیؒ تھے‘ بو علی سینا نے گیارہویں صدی عیسوی میں طب کی بنیاد رکھی اور کتاب الشفاءکے نام سے طب پر حیرت انگیز کتاب لکھی‘ یہ 18 جلدوں پر مشتمل تھی اور امیر تیمور کے پوتے الغ بیگ نے 1429ءمیں سمر قند میں دنیا کی پہلی جدید ترین رصد گاہ تعمیر کرائی‘ اس نے سورج کے گرد زمین کے چکر کا دورانیہ نکالا‘ یہ سب نئے علوم تھے‘ یہ تمام فلسفے نئی سوچ تھے‘ یہ سائنس کی بنیاد تھے اور یہ مسلمان مفکرین سائنس کے ان علوم کے بانی تھے جن کی چوٹی پر آج یورپ کی ساری ترقی بیٹھی ہے‘ مسلمان فقہ کے علم کے بھی بانی تھے‘ اسلام دنیا کا پہلا مذہب تھا جس نے اجتہاد کی بنیاد رکھی  یہ سب مسلمانوں کا کمال تھا اور ان کے کمالات کے دوران کسی شخص‘ کسی مسلم ریاست نے بو علی سینا کے خلاف مقدمہ درج کیا؟ امام غزالیؒ کو پتھر مارے اور نہ ہی البیرونی‘ ابن الہیشم‘ ثابت بن قراءاور الخوارزمی کو زندہ جلایا‘ اسلامی معاشرے نے نہ صرف ان تمام سکالرز کو تسلیم کیا بلکہ مسلمان آج تک ان پر فخر بھی کرتے ہیں۔آپ کسی دن ٹھنڈے دماغ سے عیسائیت اور اسلام کی فکری‘ سائنسی اور نظریاتی تاریخ کا مطالعہ کریں‘ آپ اسلام کو دنیا کا جدید ترین‘ وسیع القلب اور سائنسی مذہب پائیں گے‘ ایک ایسا مذہب جو فتح مکہ کے بعد ابوسفیان اور ہندہ تک کو معاف کر دیتا ہے‘

Comments